Nasri Nazmain
آو خزاں منائیں
ندی کے اس کنارے ایک لکڑی کا بینچ ہے اس کے پیچھے درخت درختوں کی دوستی کو جدا کرتی
مثالی جوڑا
روز جس کے ظاہری حسن کو دیکھ کر کئی حسرت میں مبتلا ہوں۔ جن کی علمی قابلیت کے چرچے گھر گھر ہوں۔
پھر شادی ہو گئی
،مجھے رنگوں سے عشق تھا قوس قزح کے سات رنگوں کی طرح۔ باتوں، باتوں میں ایک بات۔ ،مجھ میں جذبات کا طوفان بستا تھا
میٹھے میٹھے 'لارے'
،بس تم اس بار معافی مانگ لو پھر میں کبھی ایسی نوبت نہیں آنے دوں گا۔ ،آپ بس اس بار یہ فرمائش پوری کر دیں
بے وقت کی راگنی
میرے سامنے ،کاغذوں کے پلندے ہیں ،نقشوں کے ڈھیر ،احکام اعلی کا دباو ،توقعات کے مینار
حاصلِ شام
وہ بوسہ تھا۔ جو میری آنکھ نے دیکھا۔ ،جب ایک جھریوں بھرے ،نازک، نفیس ،کانپتے، لرزتے
رب راکھا
،میں تمہیں وداع کر کر کے ،تمہاری جدائی سہہ سہہ کر ،تمہارے انتظار میں سلگ سلگ کر تھک چکی ہوں۔
جب اذن پردیس ملا تب۔۔
اس خالی پن اس خاموشی اس آمد ہجر کی سرگوشی اس مسلط دوڑ ان گنے چنے رہ جانے والے لمحوں
بھول
ساتھ کے ہمسائیوں میں خود جا کر 'دعوتی کارڈ' دئیے گئے۔ قریب والے سارے گھروں میں 'سدے' گئے۔