سرخ گلابوں کے موسم میں۔۔۔۔۔
ڈاکٹر خدیجہ وکیل
11/11/2025
اس کے خود کو گولی مارنے کا
پتہ مجھے گھر واپسی پر چلا تھا۔
،وہ اکیلا
دماغ سے نکلتے جمے خون میں
لت پت پڑا۔
جان لے گیا۔
وہ میرا بیٹا تھا۔
فون کال ملنے پر
حواس باختہ جامعہ پہنچی تو
لڑکے، لڑکیوں کے جمگھٹے میں
زمین پر آڑی ترچھی گری
وہ آخری ہچکی لے چکی تھی۔
اس نے چھت سے کود کر دم توڑا۔
وہ میری بیٹی تھی۔
ٹی وی پر چلتی خبر پر
راہ گیر مل کر اسے
دریا کے گہرے پانی سے
، پھولے پیٹ کے ساتھ خشکی پر لٹا رہے تھے
جس کی سانسیں کب سے رخصت ہو چکی تھیں۔
وہ اسکرین پر دکھنے والا
میرا باپ تھا۔
دیار غیر سے ملنے والے سانحے کی اطلاع
اپنی ہی کلائی کی رگ
تیز دھار چھری سے کاٹ کر
دنیا سے منہ موڑنے والی
میری ماں تھی۔
اسپتال کی موت والی سرد راہداری میں
پریشانی سے چکر کاٹتے
طبیب معدے صاف کرنے کی مشقت سے ہلکان
جس کی جان سے گزرنے کی تکلیف دہ خبر
سنا کر گیا ہے۔
وہ میری بیوی تھی۔
دفتر میں سب کے سامنے
زہر کی پڑی پھانک کر
اپنی نس پھاڑ کر مٹی میں دفن ہونے والا
وہ میرا شوہر تھا۔
جانے والے، جا چکے۔
پیچھے والے، زندہ ہیں۔
لیکن مرنے والوں کی رخصتی کے بعد
،والدین
،اولاد
،زوجین
کے درو دیوار میں
،کوئی بیج نہیں پھوٹتا
،کوئی کلی نہیں کھلتی
،کوئی پودا ہرا نہیں رہتا
کوئی پھول خوشبو نہیں دیتا۔
باغیچے میں لگی کیاریاں
پیڑوں پر پھوٹتی کونپلیں
دالانوں میں رکھے گملے
بالکونیوں میں لٹکی بیلیں
گل دانوں میں سجے پھول
سبھی ناراض رہتے ہیں۔
الماری میں لٹکے کپڑوں
سنگھار میز پر رکھی خوشبوؤں
دستر خوان کے ذائقوں
موسم کے صبح و شاموں
کے
سارے رنگ روٹھ جاتے ہیں۔
،آبیاری
،بارشیں
،محبتیں
،توجہ
،محنتیں
سب بے فیض رہتے ہیں۔
سرخ گلابوں کے موسم میں بھی
پھول بے رنگ ہوتے ہیں۔
گلاب کالے ہی رہتے ہیں۔
Zabardast