رب راکھا
ڈاکٹر خدیجہ وکیل
21/01/2026
،میں تمہیں وداع کر کر کے
،تمہاری جدائی سہہ سہہ کر
،تمہارے انتظار میں سلگ سلگ کر
تھک چکی ہوں۔
،تمہاری پڑھائی
،نوکری
،ترقی
،لگن
اور
مقدر نے
،تمہارے اور اس چھوٹے گاوں میں رہنے والی مجھ میں
،نہ ختم ہونے والا سفر
اور جسمانی دوری
ڈال دی ہے۔
،کاش تمہیں معلوم ہو
،تمہاری
،ہر بار کی رخصتی
،ہر دفعہ کا امام ضامن
،ہر مرتبہ کے صدقے
،کیسے جان نکالتے
،وہم ڈالتے
،اندیشوں سے بھرتے
تمہاری ماں کو دیمک بنے چاٹتے ہیں۔
:اسی لئے
کبھی میں بے وقوف بن کر یہ سوچتی ہوں کہ
،تم جوان نہیں ہوتے
تو اپنی سدرہ کی چھ ماہ کی گڑیا کی طرح
ہمیشہ میری گود میں ہی کھیلتے۔
کبھی لالچی بن کر یہ کہتی ہوں کہ
،تم ان پڑھ ہوتے
،تو تم بھی جھورے نائی
لالے پہلوان کی طرح
ساری زندگی میری آنکھوں کے سامنے
اسی پنڈ میں رہتے۔
کبھی لایعنی خیال کرتی ہوں کہ
،چلو کوئی پانچ، دس جماعتیں پڑھ لیتے
،تو بھی باو وکی کی طرح
میرے پاس، اپنے گھر کے ارد گرد ہی
تمہارا کوئی کریانہ سٹور ہوتا۔
تو میرے جی کو تمہاری صورت ہر روز نظر آتی۔
لیکن پھر
،باجی زکیہ
،ماسی طاہرہ
،سہیلی نیلم
،پیاری نمو
،اماں شہزادی
،اور ایسی کئی یاد آتی ہیں
جنہوں نے میرا جیسا کوئی ہجر نہیں کاٹا۔
،جن کے دلارے ان کے پاس ہیں
پر ساتھ نہیں۔
،قریب ہیں
مگر نزدیک نہیں۔
،دیدار ہے
لیکن پیار نہیں۔
تب میں تمہیں اپنے سامنے رکھنے کی
،سبھی بچگانہ سوچیں اور باتیں
،جھٹک کر
پھر سے
تمہارے لئے دعا کو
ہاتھ اٹھاتی ہوں۔