جب اذن پردیس ملا تب۔۔
ڈاکٹر خدیجہ وکیل
10/01/2026
اس خالی پن
اس خاموشی
اس آمد ہجر کی سرگوشی
اس مسلط دوڑ
ان گنے چنے رہ جانے والے لمحوں
میں
،دل نے کہا
من نے چاہا۔
اپنے باپ کے
،ان جھریوں زدہ ہاتھوں کو پکڑ کر حرارت دوں
جس کا موقع فاصلوں کی سردی نہ معلوم کب دے۔
،جس نے مجھے جنا، اور جسے میں نے جنا
،ان کی قبروں کے سرہانے بیٹھ کر فاتحہ پڑھوں
جو براعظموں کی بدلتی زمین شاید پھر ایسے نہ دکھائے۔
ماں جائے کے
چہرے کی لکیروں کو گھنٹوں دیکھوں
جس کے تاثرات وقت کا ظالم چکر ہو سکتا ہے، بھلا دے۔
بہنوں کی سنگت کے
ان لمحوں کو کشید کروں
جو برسوں بعد ہونے والی ملاقاتوں میں یقینا اس
فراغت، اس لطافت سے میسر نہیں ہوں گے۔
اس خاموشی کو سنوں
جو جدائی کی خبر سے
ہر دل میں گڑی تھی۔
،ان آنکھوں کو پڑھوں
جن کی بصارتیں طویل دوری کے خیال سے
دنوں سے دھندلائی پڑی تھیں۔
ان سینوں کو لمس کی
،نہ ختم ہونے والی جپھی دوں
جن کی گرمی خود اس کا جگر ڈھونڈے گا۔
،ان نایاب یار دوستوں سے ملوں
،جن کی وفا کا دیا
،اخلاص کا چراغ
نجانے دوبارہ کہاں جلے؟
،اس زمین کی مٹی، بارش، سورج
ہوا اور روشنی کو
،خود میں اتاروں
،جن کے ذائقے، رنگ اور خوشبو
جہاز کے پائیدان پر پاوں رکھتے ہی
بدل جائیں گے۔
:اس لئے
جب اذن پردیس ملا تب۔۔۔
،دل نے کہا
من نے چاہا۔