اوکھے پینڈے
تینتیسویں قسط
سچ کہیں تو بچوں اور لڑکے کی ایسی باتیں لڑکی کا دل دکھاتی تھیں۔ بھلے ان کا مقصد اس کو یاد دلاتے رہنا تھا۔ لیکن اہم یہ تھا کہ بھولتا تو اسے بھی نہیں تھا کہ وقت گزر رہا ہے اور اس کے تحقیقی مقالے اور تھیسس لکھنے کا کام ابھی باقی ہے۔ یہ وہ شعوری اور غیر شعوری ذہنی تناو تھا جو چاہتے، نہ چاہتے ہر وقت اس کے ساتھ رہتا تھا۔
چونتیسویں-پینتیسویں قسط
اس سے پچھلے سال 2019 میں لڑکی کے دو تحقیقی مقالے ایک impact factor جرنل اور ایک بین الاقوامی کانفرنس میں بحیثیت پہلے محقق کے شائع بھی ہو چکے تھے۔ اور تین مزید تحقیقی کام بھی کسی اور کی معیت میں مکمل کئے تھے۔ ایک چیز جس کا ارادہ دونوں نے کر رکھا تھا کہ
چھتیسویں-سینتیسویں قسط
پہلا ڈرافٹ بھیجا تو جون اختتام پذیر تھا۔ گرمی اپنے عروج پر تھی لیکن ذہن کو ایک ہدف پورا کرنے کی ٹھنڈک مل گئی تھی۔ کچھ وقت نکالنے اور لکھنے کا 'مومینٹم' بن گیا تھا اس لئے اسے برقرار رکھنے اور ضائع نہ کرنے کے خیال سے کوئی وقفہ نہیں لیا۔ اور اسی معمول کو جاری رکھا۔ یہ تو بالکل معلوم تھا کہ
اڑتیسویں قسط
دوسرے ڈرافٹ کی حوصلہ افزا آرا سے ان کو یہ ڈگری مکمل ہوتے لگنے لگی۔ یعنی ہاتھی کی دم باقی رہ گئی تھی۔ جس کو وہ دونوں قدرے آسان سمجھتے تھے کہ پروپوزل ڈویلپمنٹ، کمیٹی سے منظوری، لٹرییچر ریویو، ٹولز کا بنانا، فیلڈ ڈیٹا کلیکشن، تجزیے، مقالوں کا لکھنا، شائع ہونا
انتالیسویں قسط
ساڑھے سات بچوں کو سلانے والی، نو بجے تک خود نیند کی آغوش میں جانے والی، مرکزی بڑے دروازے پر مغرب کے بعد ہی تالا لگانے والی کو جب رات گیارہ بجے تک انتظار کرنا پڑا ہو گا تو وہ کیسا ہو گا؟ جب کہ راتیں بھی سردی کی خبر دیتی ہوں۔
چالیسویں قسط
اگر آپ اجازت دیں تو کیا میں پی-ایچ-ڈی کے اس امیدوار کے 'ڈاکٹر بننے کا اعلان کر دوں؟ جی سر۔ ضرور۔ میٹنگ کے سربراہ نے سپروائزر سے پوچھا۔ تب پرنسپل اسکول اوپن ڈیفنس میں امیدوار کے سپروائزر، تمام ملکی، بین الاقوامی ممتحنوں، اور سبھی حاضرین، مہمانوں کے سامنے اسٹیج پر کھڑا کر کے لڑکے امیدوار کو مخاطب کر کے بولتا ہے: آج سے آپ ڈاکٹر ۔۔۔ہیں۔
:اکتالیسویں قسط
آخری سے پہلی قسط: اسلام آباد، پاکستان:2021 اگلے دو گھنٹے وہ جم کر وہی بیٹھے رہے اور مروت میں وقت دینے والے پہلے مروتا اور پھر دلچسپی سے ان کے ساتھ ٹکے رہے۔ لڑکی کی بنی پریزینٹیشن پر قینچی چلتی رہی۔ کیونکہ وہ اس 'سبجیکٹ' میں ایک ماہرانہ علم نہیں رکھتے تھے تو کہیں اپنی معلومات کے لئے سوال پوچھتے تھے اور کبھی استاد اور کئی ڈاکٹریٹ امتحانات لینے کی وجہ سے اپنے تجربے کی بنیاد پر مشورے اور رائے دیتے۔ تو جب کل ہونے والے ڈیفنس کی تیاری کے سبب لڑکے کو سپروائزر کا وقت نہیں مل رہا تھا تو تب وہ دوسری طرف ان مہربانوں کے کمرے میں لڑکی کے کام کی ابتدائی چیڑ پھاڑ اور پڑتال کروا چکے تھے۔ جب وہ شکریہ کہہ کر رخصت ہونے لگے تو ان میں سے ایک محترم لڑکے سےبولے۔۔۔۔
بیالیسویں قسط: آخری قسط
اسلام آباد، پاکستان:2022 گھر واپس پہنچے تو گن کے بیس دن رہ گئے تھے۔ اب گوشہ نشین ہونے کی باری لڑکی کی تھی۔ سرما کی چھٹیوں کا ہفتہ ابھی باقی تھا تو بچے گھر پر ہی تھے۔ لیکن لڑکے کی سالانہ چھٹی ختم تھی۔ دفتر جانا دوبارہ معمول بن گیا تھا۔ دھند، کہر اور سردی عروج پر تھی۔ طے یہ پایا کہ لڑکی اپنا زیادہ سے زیادہ وقت ڈیفنس کی تیاری کو دے۔ گھر داری سے وقفہ لیا جائے۔ گھر کے کام مددگار حسب معمول سر انجام دے۔ کھانا باہر سے بھی آسکتا ہے جس پر لڑکی آمادہ نہ تھی۔ کہ وہ سب گھر کا بنا، کم مصالحے اور کم تیل کا کھانے کے عادی تھے۔ اس لئے وہ ریلیکسیشن کے لئے صرف