اوکھے پینڈے
دسویں قسط
زندگی میں کچھ بھی مستقل نہیں سوائے اللہ رب العزت کے وجود اور آپ کے یقین کے۔ بسا اوقات جنہیں ہم رتبے، عمر، تجربے یا دانش کے حوالے سے جس اونچے مقام پر سمجھتے ہیں وہ ہی کوئی ایسی بات کر جاتے ہیں۔ جو ان کی آپ کے لئے اہمیت میں کمی اور آپ کے اعتماد میں سوراخ کا باعث بنتی ہے۔ اور اگر آپ ان سارے معیارات جن کا ذکر میں نے پہلی سطروں میں کیا ہے، کم ہیں تو آپ شکوک کا شکار ہوتے ہیں۔ تب صرف مولا کا کرم اور رحم ہی آپ کا مددگار بنتا ہے اور آپ کو اس منجدھار سے باہر نکالتا ہے۔
گیارہویں قسط
ان کا بیٹا اور کمپنی دونوں کی عمر تقریبا چار سال ہو گئی تھی۔ بچے کو اسکول داخل کروانے کا وقت آگیا تھا۔ اور کمپنی نے اس عرصے میں پیسے، عزت اور نام بھی کما کے دیا تھا۔ وہ پارٹ ٹائم اس کو لے کے چل رہے تھے۔ جس نے ان کی خاندان کا بڑا بیٹا اور بہو ہونے کے ناطے آنے والی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے میں بڑی مدد کی تھی۔ نیت کی درستگی، محنت، دعا اور آگے بڑھنے کی کوشش
بارہویں قسط
بچے کو اسکول داخل کروانے کا وقت آگیا۔ لیکن منتخب شدہ اسکول کی کوئی 'برانچ' اس علاقے میں نہیں تھی۔ دوسری طرف گھر بھی نسبتا بڑا لینے کی ضرورت بن رہی تھی۔ اس لئے انھیں گھر تبدیل کرنا پڑا۔ تاکہ اتنے چھوٹے بچے کا 'ٹریول ٹائم' مختصر ترین رہے۔ علاقہ بدلا، گھر بدلا، اوپر والے حصے میں رہنے والے لوگ بدلے۔ لیکن محبت کا وہ تعلق جو احساس سے شروع ہوا تھا۔ روز افزوں پنپتا رہا۔
تیرھویں قسط
تسلی کے پھاہے اور ساتھ کی یقین دہانی ہونے کے باوجود جب عملا کلاسز کا آغاز ہوا تو صحیح معنوں میں دونوں کو 'لو لگ گئی'۔ طے شیڈول کے مطابق صبح جو فجر کی نماز سے شروع ہوتی تو بلا مبالغہ رات ایک دو بجے تک ختم ہی نہ ہوتی۔ طبیعت کے اتار چڑھاو اور جامعہ میں داخلہ لینے کی وجہ سے گھریلو کام کاج کے لئے ایک مددگار پچھلے عرصے سے آنے لگی تھی۔ لیکن کچن اور کھانا پکانے کی ذمہ داری وہ خود ہی انجام دیتی تھی۔ ملازمہ نو سے دس کے درمیان آتی تھی۔
چودہویں قسط
تسلی کے پھاہے اور ساتھ کی یقین دہانی ہونے کے باوجود جب عملا کلاسز کا آغاز ہوا تو صحیح معنوں میں دونوں کو 'لو لگ گئی'۔ طے شیڈول کے مطابق صبح جو فجر کی نماز سے شروع ہوتی تو بلا مبالغہ رات ایک دو بجے تک ختم ہی نہ ہوتی۔ طبیعت کے اتار چڑھاو اور جامعہ میں داخلہ لینے کی وجہ سے گھریلو کام کاج کے لئے ایک مددگار پچھلے عرصے سے آنے لگی تھی۔ لیکن کچن اور کھانا پکانے کی ذمہ داری وہ خود ہی انجام دیتی تھی۔ ملازمہ نو سے دس کے درمیان آتی تھی۔
سترہویں قسط
جب دو ہزار پندرہ کے اختتام تک سات مضامین وہ پاس کر چکے، بڑا بیٹا اسکول جانے لگا اور چھوٹے کا پہلا مشکل سال گزر گیا تو ان دونوں نے سکون کا سانس لیا۔ انھیں لگا کہ اب چیزیں 'انڈر کنٹرول' ہیں۔ بس ایک مضمون رہ گیا ہے۔ جس کے لئے ہفتے کے دو دن کلاس لیں گے اور ساتھ ریسرچ کا کام زیادہ توجہ اور محنت سے کریں گے تو اگر اللہ نے چاہا تو اگلے ڈیڑھ، دو سال میں پی-ایچ-ڈی پوری کر لیں گے۔
پندرہویں -سولہویں قسط
آپ پیش کش شدہ مضامین میں سے صرف وہ منتخب کر سکتے ہیں جو آپ نے ایم-ایس-سی میں نہیں پڑھے۔ سب سے سادہ شرط جس کی بنیاد پر آپ وہ آٹھ مضامین چنیں گے جو پی-ایچ-ڈی کورس ورک کا حصہ تھے۔ مرتے کیا نہ کرتے کہ مصداق چار کو چن لیا۔ ماسٹرز اور پی-ایچ-ڈی کی کلاسز اکٹھی ہوتی تھیں۔ کل اساتذہ تین جن میں سے دو ڈاکٹر۔ تیسرے استاد یونیورسٹی قوانین کے مطابق ماسٹرز کو پڑھانے کے اہل تھے لیکن پی-ایچ-ڈی کو ایک پی-ایچ-ڈی ہی پڑھا سکتا ہے کے معیار پر پورا نہیں اترتے
اٹھارہویں قسط
تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کوالمپور ملائیشیا میں ہو رہی تھی۔ جامعہ ان کے جانے کا سارا خرچہ اٹھا رہی تھی۔ رجسٹریشن، ٹکٹ، رہنا وغیرہ۔ لیکن بس ایک قباحت یہ تھی کہ جوں جوں ان دونوں کی درخواستیں مختلف منتظمین کے میزوں تک پہنچتیں اور کہیں سے یہ بھی کانوں میں پڑ جاتا کہ دونوں میاں بیوی ہیں تو کوئی اس اتفاق سے حظ اٹھاتا۔ کسی کو لگتا 'فیملی ٹرپ' پر جا رہے ہیں۔ کسی کو شک پڑتا کہ واقعی دونوں نے اپنے مقالے ایک ہی جگہ پیش کرنے ہیں۔ ا
انیسویں قسط
اسٹاف بامروت تھا۔ پروفیشنل مسکراہٹ ان کے ہونٹوں سے جدا نہیں ہوتی تھی۔ لیکن اصول و ضوابط نے ان کے ہاتھ باندھ رکھے تھے۔ دوسری طرف ان پر جو بیتی تھی اور جس جسمانی و ذہنی تھکن کا وہ شکار تھے۔ انھیں یہ ساری مسکراہٹیں مصنوعی لگ رہی تھیں۔ لیکن وہ زبردستی بھی نہیں کر سکتے تھے۔ ان کی حالت، چھوٹے بچوں کا ساتھ۔ اسٹاف ان کو 'سوئمنگ ایریا' میں لے آیا اور کہا کہ اگلے تین گھنٹے وہ ادھر گزار سکتے ہیں
بیسویں- اکیسویں قسط
ملائیشیا : 2016نیا دن، نئے تجربے، نئے امتحان۔ اس بات کا ادراک جتنا جلدی ہو جائے، اتنا ہی انسان کے لئے زندگی کے معانی بدلنے لگتے ہیں۔ شکوے، اداسیاں، شکایتیں مرنے لگتی ہیں۔ مشکلات پر ہاتھ، پاوں چھوڑنے کی بجائے اٹھ کر کھڑا ہونے کی عادت ہونے لگتی ہے۔ ملائیشیا میں سورج، پاکستان سے تین گھنٹے پہلے طلوع ہوتا ہے۔ وہ دونوں فجر کے اٹھ گئے تھے۔