اوکھے پینڈے

دسویں قسط

ڈاکٹر خدیجہ وکیل

02/11/2022

زندگی میں کچھ بھی مستقل نہیں سوائے اللہ رب العزت کے وجود اور آپ کے یقین کے۔ بسا اوقات جنہیں ہم رتبے، عمر، تجربے یا دانش کے حوالے سے جس اونچے مقام پر سمجھتے ہیں وہ ہی کوئی ایسی بات کر جاتے ہیں۔ جو ان کی آپ کے لئے اہمیت میں کمی اور آپ کے اعتماد میں سوراخ کا باعث بنتی ہے۔ اور اگر آپ ان سارے معیارات جن کا ذکر میں نے پہلی سطروں میں کیا ہے، کم ہیں تو آپ شکوک کا شکار ہوتے ہیں۔ تب صرف مولا کا کرم اور رحم ہی آپ کا مددگار بنتا ہے اور آپ کو اس منجدھار سے باہر نکالتا ہے۔

Read more...

گیارہویں قسط

ڈاکٹر خدیجہ وکیل

30/11/2022

ان کا بیٹا اور کمپنی دونوں کی عمر تقریبا چار سال ہو گئی تھی۔ بچے کو اسکول داخل کروانے کا وقت آگیا تھا۔ اور کمپنی نے اس عرصے میں پیسے، عزت اور نام بھی کما کے دیا تھا۔ وہ پارٹ ٹائم اس کو لے کے چل رہے تھے۔ جس نے ان کی خاندان کا بڑا بیٹا اور بہو ہونے کے ناطے آنے والی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے میں بڑی مدد کی تھی۔ نیت کی درستگی، محنت، دعا اور آگے بڑھنے کی کوشش

Read more...

بارہویں قسط

ڈاکٹر خدیجہ وکیل

05/02/2023

بچے کو اسکول داخل کروانے کا وقت آگیا۔ لیکن منتخب شدہ اسکول کی کوئی 'برانچ' اس علاقے میں نہیں تھی۔ دوسری طرف گھر بھی نسبتا بڑا لینے کی ضرورت بن رہی تھی۔ اس لئے انھیں گھر تبدیل کرنا پڑا۔ تاکہ اتنے چھوٹے بچے کا 'ٹریول ٹائم' مختصر ترین رہے۔ علاقہ بدلا، گھر بدلا، اوپر والے حصے میں رہنے والے لوگ بدلے۔ لیکن محبت کا وہ تعلق جو احساس سے شروع ہوا تھا۔ روز افزوں پنپتا رہا۔

Read more...

تیرھویں قسط

ڈاکٹر خدیجہ وکیل

13/03/2023

تسلی کے پھاہے اور ساتھ کی یقین دہانی ہونے کے باوجود جب عملا کلاسز کا آغاز ہوا تو صحیح معنوں میں دونوں کو 'لو لگ گئی'۔ طے شیڈول کے مطابق صبح جو فجر کی نماز سے شروع ہوتی تو بلا مبالغہ رات ایک دو بجے تک ختم ہی نہ ہوتی۔ طبیعت کے اتار چڑھاو اور جامعہ میں داخلہ لینے کی وجہ سے گھریلو کام کاج کے لئے ایک مددگار پچھلے عرصے سے آنے لگی تھی۔ لیکن کچن اور کھانا پکانے کی ذمہ داری وہ خود ہی انجام دیتی تھی۔ ملازمہ نو سے دس کے درمیان آتی تھی۔

Read more...

چودہویں قسط

ڈاکٹر خدیجہ وکیل

12/04/2023

تسلی کے پھاہے اور ساتھ کی یقین دہانی ہونے کے باوجود جب عملا کلاسز کا آغاز ہوا تو صحیح معنوں میں دونوں کو 'لو لگ گئی'۔ طے شیڈول کے مطابق صبح جو فجر کی نماز سے شروع ہوتی تو بلا مبالغہ رات ایک دو بجے تک ختم ہی نہ ہوتی۔ طبیعت کے اتار چڑھاو اور جامعہ میں داخلہ لینے کی وجہ سے گھریلو کام کاج کے لئے ایک مددگار پچھلے عرصے سے آنے لگی تھی۔ لیکن کچن اور کھانا پکانے کی ذمہ داری وہ خود ہی انجام دیتی تھی۔ ملازمہ نو سے دس کے درمیان آتی تھی۔

Read more...

سترہویں قسط

ڈاکٹر خدیجہ وکیل

05/07/2023

جب دو ہزار پندرہ کے اختتام تک سات مضامین وہ پاس کر چکے، بڑا بیٹا اسکول جانے لگا اور چھوٹے کا پہلا مشکل سال گزر گیا تو ان دونوں نے سکون کا سانس لیا۔ انھیں لگا کہ اب چیزیں 'انڈر کنٹرول' ہیں۔ بس ایک مضمون رہ گیا ہے۔ جس کے لئے ہفتے کے دو دن کلاس لیں گے اور ساتھ ریسرچ کا کام زیادہ توجہ اور محنت سے کریں گے تو اگر اللہ نے چاہا تو اگلے ڈیڑھ، دو سال میں پی-ایچ-ڈی پوری کر لیں گے۔

Read more...

پندرہویں -سولہویں قسط

ڈاکٹر خدیجہ وکیل

10/07/2023

آپ پیش کش شدہ مضامین میں سے صرف وہ منتخب کر سکتے ہیں جو آپ نے ایم-ایس-سی میں نہیں پڑھے۔ سب سے سادہ شرط جس کی بنیاد پر آپ وہ آٹھ مضامین چنیں گے جو پی-ایچ-ڈی کورس ورک کا حصہ تھے۔ مرتے کیا نہ کرتے کہ مصداق چار کو چن لیا۔ ماسٹرز اور پی-ایچ-ڈی کی کلاسز اکٹھی ہوتی تھیں۔ کل اساتذہ تین جن میں سے دو ڈاکٹر۔ تیسرے استاد یونیورسٹی قوانین کے مطابق ماسٹرز کو پڑھانے کے اہل تھے لیکن پی-ایچ-ڈی کو ایک پی-ایچ-ڈی ہی پڑھا سکتا ہے کے معیار پر پورا نہیں اترتے

Read more...

اٹھارہویں قسط

ڈاکٹر خدیجہ وکیل

05/08/2023

تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کوالمپور ملائیشیا میں ہو رہی تھی۔ جامعہ ان کے جانے کا سارا خرچہ اٹھا رہی تھی۔ رجسٹریشن، ٹکٹ، رہنا وغیرہ۔ لیکن بس ایک قباحت یہ تھی کہ جوں جوں ان دونوں کی درخواستیں مختلف منتظمین کے میزوں تک پہنچتیں اور کہیں سے یہ بھی کانوں میں پڑ جاتا کہ دونوں میاں بیوی ہیں تو کوئی اس اتفاق سے حظ اٹھاتا۔ کسی کو لگتا 'فیملی ٹرپ' پر جا رہے ہیں۔ کسی کو شک پڑتا کہ واقعی دونوں نے اپنے مقالے ایک ہی جگہ پیش کرنے ہیں۔ ا

Read more...

انیسویں قسط

ڈاکٹر خدیجہ وکیل

01/09/2023

اسٹاف بامروت تھا۔ پروفیشنل مسکراہٹ ان کے ہونٹوں سے جدا نہیں ہوتی تھی۔ لیکن اصول و ضوابط نے ان کے ہاتھ باندھ رکھے تھے۔ دوسری طرف ان پر جو بیتی تھی اور جس جسمانی و ذہنی تھکن کا وہ شکار تھے۔ انھیں یہ ساری مسکراہٹیں مصنوعی لگ رہی تھیں۔ لیکن وہ زبردستی بھی نہیں کر سکتے تھے۔ ان کی حالت، چھوٹے بچوں کا ساتھ۔ اسٹاف ان کو 'سوئمنگ ایریا' میں لے آیا اور کہا کہ اگلے تین گھنٹے وہ ادھر گزار سکتے ہیں

Read more...

بیسویں- اکیسویں قسط

ڈاکٹر خدیجہ وکیل

01/11/2023

ملائیشیا : 2016نیا دن، نئے تجربے، نئے امتحان۔ اس بات کا ادراک جتنا جلدی ہو جائے، اتنا ہی انسان کے لئے زندگی کے معانی بدلنے لگتے ہیں۔ شکوے، اداسیاں، شکایتیں مرنے لگتی ہیں۔ مشکلات پر ہاتھ، پاوں چھوڑنے کی بجائے اٹھ کر کھڑا ہونے کی عادت ہونے لگتی ہے۔ ملائیشیا میں سورج، پاکستان سے تین گھنٹے پہلے طلوع ہوتا ہے۔ وہ دونوں فجر کے اٹھ گئے تھے۔

Read more...