آہ۔۔سائرہ رضا
ڈاکٹر خدیجہ وکیل
17/06/2026
پنجاب کا سفر
:اور اس کے تین مشاہدے
،کراچی تو پینے کے پانی کو بھی ترستا ہے
اور وہاں گاڑیاں بھی
دن رات کھلا نہاتی ہیں۔
ویگنوں میں ڈرائیور
کے ساتھ سامنے کی دو سیٹیں
عورتوں کے لئے مختص ہیں۔
،تازہ دودھ، دہی، مکھن
سبزہ، کھیت یہاں اب بھی دستیاب ہیں۔
جبکہ ہم
تو اب سیمنٹ کے جنگل میں رہتے ہیں۔
:عیدالاضحٰی کا بیان
گوشت اتنا کھاتی نہیں
لیکن بیزاری اور نخرے بھی
نہیں کرتی۔
انبیاء کی محبت میں
یہ حق ادا کرنا تو بنتا ہی ہے۔
سل بٹے پر پیس پیس کر
کباب، کوفتے بناتی ہوں۔
:اس کا لکھا پہلے پہل جو پڑھا
وہ ایک سادہ ماں کے
فرمانبردار بیٹے کی
نئی شادی سے جڑی
تلخیوں کی
کہانی تھی۔
پھر وہ جس میں دیوار جڑے دو گھروں میں
رہنے والے
دو بھائیوں کے بچوں کی ازدواجی زندگی
کی بپتا۔
جو روز معاش نے سمندروں کے ہجر میں مبتلا کر دئیے۔
پرہیز گار مرد
انسانی جذبوں اور ساتھ کی ضرورت کے ہاتھوں
کیسے نیند اور رات میں
لا شعوری طور پر غیر فطری حرکات
کرتا ہے۔
جو لڑکے کی دیار غیر میں دوسری شادی
اور لڑکی کے شادی شدہ ہونے کے باوجود
اکیلے پن کے بحران پر منتج
ہوتی ہے۔
اور وہ تحریر جس کا
لب لباب یہ تھا کہ باپردہ عورت کے
حسن کے چرچے
،مردانے، بازاروں، گلی کوچوں
محلوں تک
عورتیں ہی پہنچاتی ہیں۔
کبھی انجانے میں اپنے شوہروں
،بھائیوں، مردوں سے تذکرہ کر کے
،کبھی حسد، رشک میں
،کبھی دوستی یاری میں
،اور کبھی دشمنی و محبت میں
لیکن اس کے بھگتان اس بے خبر عورت پر
کیسے اور کہاں کہاں اترتے ہیں۔
کسی کو معلوم نہیں۔
،حسن المآب
،رفوگری میری
،دل موم کا دیا
،یحیی
وغیرہ
،اور ایسی کئی کہانیاں
،قصے
،ڈرامے
،زیادہ پڑھے
کم دیکھے۔
: پھر اپنی ماں کی وفات پر لکھے تاثرات
سادہ، لگی لپٹی کے بغیر
جیسے زندگی کا بہاو ہوتا ہے
ویسے ہی۔
ایک عورت اور اس کے
صبر و جدوجہد کی نشان
فکرمندی کی لکیریں لیکن باوقار یادیں
:مجھے اس کا کیا پسند تھا
ان چاہے پر لکھنا
ناپسندیدہ پہلووں کو چھیڑنا
انسانوں کے مثالی بت نہ بنانا
تصنع سے دور لکھنا
خوش فہمیوں کے آئینے توڑنا
:میرا اس سے تعلق
دور سے
بنا ملاقات کے
بغیر دیکھے
صرف تحریر اور الفاظ کا
:میرا غم
حقیقتوں پر لکھنے والی ایک اور
چلی گئی۔
اس کی بیٹیاں
جو 'ہالہ' نہ بنیں۔
کہ حمزہ ملنے تک کا سفر
پر اذیت ہے۔
:میری مجبوری
موت حقیقت ہے۔
موت برحق ہے۔
زندہ رہنے والوں کے لئے
موت ظالم ہے۔
مرنے والوں کے لئے
موت ابدی سفر کی جانب پہلا قدم ہے۔