Share
OR

آو خزاں منائیں

Dr. Khydija Wakil


ندی کے اس کنارے
ایک لکڑی کا بینچ ہے
اس کے پیچھے درخت
درختوں کی دوستی کو جدا کرتی
بل کھاتی روش
اور اینٹوں سے بنا راستہ
ان جدا ہوئے پیڑوں کے عقب میں
انگریزی طرز کے جدید گھر
پر سکوں ریستوران
جن کے دروازے، کھڑکیاں، بالکونیاں
اسی طرف کھلتے ہیں۔

اس لکڑی کے بینچ کے
دو مخالف کناروں پر بیٹھے
وہ دو

ان کے پیروں کے تلووں کو گدگداتا
ہرے گھاس کا فرش
اور اس پر ان گنت
خشک پتوں کی آوارگی

وہ دو
ندی کے دوسرے کنارے لگے درختوں
سے جھانکتے سورج کی روشنی سے
لشکتے پانی کی مدھم لہروں کو دیکھتے
خاموش
مطمئن

اس خاموشی کو چھیڑتی
کالی بطخوں کی کیں کیں
کوووں کی کائیں کائیں
پرندوں کی ٹیں ٹیں
طوطوں کی چہکاریں

اور ان رنگ برنگی آوازوں میں
سوراخ کرتی
ان دونوں میں سے ایک کی
وہ بات
میں پت جھڑ بننا چاہتی ہوں

وہ جو دور بیٹھا تھا
کانپ گیا
شش۔۔شش۔۔۔شش
یہ تو جدائی کا موسم ہے
موت کا موسم
بکھر کے ٹوٹنے کا وقت
بچھڑنے کا سمے
ختم ہو جانے کی ساعت

،وہ ڈرا
اور انجانے خوف کی لپیٹ میں
اس کے قریب ہوا
خوفزدہ باتیں کہنے والی کے ہاتھ
کو تھام کر
اپنے ہاتھ کی گرمائش دی۔

وہ جو کہہ رہی تھی
جدائی اگر ایسی جادوئی ہو
رنگ بھری ہو
زندگی کو مات دیتی ہو
تو کیا بری؟

وہ پریشان، اس کے اور پاس ہوا
ہاتھ پر نرم لمس کے دباو
کو بڑھاتا
،بزبان چپ
کہتا
یوں نہ کہو
ساتھ رہنے کی
جینے کی بات کرو


وہ اس کے خاموش لفظوں کو
سمجھتی، بولتی ہے
!دیکھو
اگر فراق کی گھڑی
ان آخری سانس لیتے
پتوں کی طرح ہو
سرخ، سیاہی مائل سرخ
اناری، گاجری
،احمری، پیازی
،بھوری
،دہکتی نارنجی
پیلی، زرد،
،گہری لال
، قرمزی، عنابی
،جامنی، کشمشی
گلابی، آتشی گلابی

اتنی جاندار کہ
پورے منظر نامے پر حاوی ہو
تمام سبزے کو پچھاڑ دے
ملن کے سبھی رنگوں کو گہنا دے
زندگی کی سبھی خوش فہمیوں پر بھاری ہو۔
تو کیوں عیبی؟

وہ خدشوں سے دھڑکتا
اپنا دوسرا بازو اس کے
گرد لپیٹتا ہے
اور داہنے ہاتھ کی انگشت
اس کے ٹھنڈے لبوں پر رکھتا ہے

وہ جو بند ہونٹوں سے
بھی گفتگو کرتی ہے
کہ
بہار کے متعلق ساری باتیں سچ نہیں
رفاقت کی ساری کہانیاں درست نہیں
حیات کی چاہ ہمیشہ ٹھیک نہیں
خزاں سے ڈرنا بہادری نہیں

اگر وہ ہو
سرخ، سیاہی مائل سرخ
عنابی، کشمشی
گلابی، آتشی گلابی
سارے منظر پر حاوی
۔۔۔
۔۔۔
۔۔۔

3
0
Name